نئی دہلی،8؍فروری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا) انگلینڈ کے خلاف اس وقت ون ڈے سیریز کھیل رہی ہندوستان کی انڈر 19 ٹیم کو ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) میں اصلاحات کو لے کر سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے اقتصادی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ٹیم کے کھلاڑیوں یہاں تک کہ کوچ راہل دراوڑ کو بھی اب اس کے بعد بورڈ کی جانب سے یومیہ بھتہ نہیں مل پایاہے۔ اجے شرکے کے بی سی سی آئی کے سیکرٹری کے عہدے سے ہٹنے کے بعد کسی بورڈ عہدیدار کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ صورت حال آئی ہے۔ نوٹ بندی کے فیصلے کے سبب ہفتے میں پیسے کی طے شدہ حد نے صورتحال کو اور خراب کر دیا ہے۔اس کی وجہ سے جونیئر ٹیم کے کھلاڑیوں کو 6800 روپے یومیہ الاؤنس نہیں مل پا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالت یہ ہے کہ کرکٹرز کو ڈنر کے لئے بھی اپنی جانب سے ادا کرنا پڑ رہا ہے، کچھ کرکٹر تو اس پریشانی کی وجہ سے اپنے والدین پر منحصر ہو گئے ہیں۔ نیا عہدیدار مقرر کرنے کے لئے بی سی سی آئی کے اراکین کو نیا قرارداد منظور کرنا ہوگا۔ ایک بی سی سی آئی افسر نے کہا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ جیسے ہی سیریز ختم ہو گی، ہم ڈی اے براہ راست کھلاڑیوں اورمعاون عملے کے اکاؤنٹ میں بھیج دیں گے۔ بی سی سی آئی میں بھی کئی سارے مسائل ہیں، ہمارے پاس عہدیدار نہیں ہیں اور ہم کسی کو ادا نہیں کر سکتے۔ہندوستانی انڈر 19 ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ میچ کے دوران کسی طرح سے ایک وقت کے کھانے کا انتظام میزبان ایسوسی ایشن کی جانب سے کیا گیا جبکہ ناشتہ کا ہوٹل نے اہتمام کیا۔ سب سے بڑا مسئلہ ڈنر ہے،ہمیں ممبئی کے ایسے بڑے ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے جہاں سینڈوج کی قیمت ہی 1500 روپے کے اوپر ہے۔ ایسے میں کھلاڑیوں کے پاس میدان پر تھکاوٹ سے بھرا دن گزارنے کے بعد باہر کھانا کھانے کا اختیار ہی بچتا ہے۔
دوسری طرف بنگلہ دیش کے خلاف جمعرات سے حیدرآباد میں ٹیسٹ کھیلنے والی سینئر ٹیم کو اس طرح کی کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا رہا ہے کیونکہ منتظمہ کمیٹی (سی اواے) نے بی سی سی آئی کے سی ای او راہل جوہری سے کھلاڑیوں کی یومیہ مراعات پر توجہ رکھنے کو کہا ہے۔